❮
❯
حدیث نمبر: 2765
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ : ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَاقِلُ ، قَالُوا : فَمَنْ أَعْبَدُ النَّاسِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَاقِلُ ، قَالُوا : فَمَنْ أَفْضَلُ النَّاسِ ؟ قَالَ : الْعَاقِلُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَلَيْسَ الْعَاقِلُ مَنْ تَمَّتْ مُرُوءَتُهُ ، وَظَهَرَتْ فَصَاحَتُهُ ، وَعَظُمَتْ مَنْزِلَتُهُ ، فَقَالَ : فَإِنَّ كُلَّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ( الْآيَةَ ) ، وَلَكِنَّ الْعَاقِلَ الْمُتَّقِي ، وَإِنْ كَانَ فِي الدُّنْيَا خَسِيسًا ، قَصِيًّا ، دَنِيًّا .
ترجمہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عقل مند شخص۔“ انہوں نے عرض کی: ”تو لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقل مند شخص۔“ انہوں نے پھر پوچھا: ”تو لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عقل مند شخص۔“ اس پر انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا عقل مند وہ نہیں ہوتا جس کی مروت و انسانیت کامل ہو، جس کی فصاحت و گویائی نمایاں ہو اور جس کا جاہ و مرتبہ بڑا ہو؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ سب تو محض دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے ﴿وَإِنْ كُلُّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة الزخرف: 35]، لیکن حقیقت میں عقل مند تو وہ ہے جو تقویٰ اختیار کرنے والا ہو، اگرچہ وہ دنیا کی نظر میں پست رتبہ، گمنام اور معمولی ہی کیوں نہ ہو۔“
اس روایت کی سند سخت ضعیف بلکہ من گھڑت ہے کیونکہ اس میں داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ جیسے کذاب اور حدیثیں وضع کرنے والے راوی شامل ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2765
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»