❮
❯
حدیث نمبر: 2752
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبًا ، يَقُولُ : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ طَرَفَيْنِ وَوَسَطًا ، فَإِذَا أُمْسِكَ بِأَحَدِ الطَّرَفَيْنِ مَالَ الْآخَرُ ، وَإِذَا أُمْسِكَ بِالْوَسَطِ اعْتَدَلَ الطَّرَفَانِ ، وَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِالْأَوْسَاطِ مِنَ الْأَشْيَاءِ .
ترجمہ

عبد الصمد بن معقل سے روایت ہے کہ انہوں نے وہب بن منبہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”یقیناً ہر چیز کے دو کنارے اور ایک درمیانی حصہ ہوتا ہے؛ چنانچہ جب ان دو کناروں میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جائے تو دوسرا سرہ جھک جاتا ہے، لیکن جب اسے وسط یعنی عین درمیان سے تھاما جائے تو دونوں کنارے برابر اور اعتدال پر رہتے ہیں۔“ نیز انہوں نے فرمایا: ”تم پر لازم ہے کہ تمام امور میں میانہ روی اور وسطی راہ اختیار کرو۔“
اس قول کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2752
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الأثر صحيح رواته ثقات وهو موافق لقواعد الشرع وتشهد له الآيات القرآنية. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6115»