المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ خير الأمور الوسط باب: بہترین امور کے میانہ روی پر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2752
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبًا ، يَقُولُ : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ طَرَفَيْنِ وَوَسَطًا ، فَإِذَا أُمْسِكَ بِأَحَدِ الطَّرَفَيْنِ مَالَ الْآخَرُ ، وَإِذَا أُمْسِكَ بِالْوَسَطِ اعْتَدَلَ الطَّرَفَانِ ، وَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِالْأَوْسَاطِ مِنَ الْأَشْيَاءِ .ترجمہ
عبد الصمد بن معقل سے روایت ہے کہ انہوں نے وہب بن منبہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”یقیناً ہر چیز کے دو کنارے اور ایک درمیانی حصہ ہوتا ہے؛ چنانچہ جب ان دو کناروں میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جائے تو دوسرا سرہ جھک جاتا ہے، لیکن جب اسے وسط یعنی عین درمیان سے تھاما جائے تو دونوں کنارے برابر اور اعتدال پر رہتے ہیں۔“ نیز انہوں نے فرمایا: ”تم پر لازم ہے کہ تمام امور میں میانہ روی اور وسطی راہ اختیار کرو۔“
اس قول کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔