المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالتودد إِلَى الإخوان باب: بھائیوں کے ساتھ مہر و محبت اور الفت و مودت اختیار کرنے کے حکم کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلِمَةَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاخِي بَيْنَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَتَطُولُ عَلَى أَحَدِهِمَا اللَّيْلَةُ ، حَتَّى يَلْقَى أَخَاهُ ، فَيَلْقَاهُ بِوُدٍّ ، وَلُطْفٍ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ كُنْتَ بَعْدِي ؟ فَأَمَّا الْعَامَّةُ فَلَمْ يَكُنْ يَأْتِي عَلَى أَحَدِهِمَا ثَلَاثٌ ، لَا يَعْلَمُ عِلْمَ أَخِيهِ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ میں سے دو دو افراد کے درمیان بھائی چارہ (مواخات) قائم فرما دیتے تھے، (ان کی باہمی قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ) ان میں سے ایک پر رات (جدائی کی وجہ سے) بہت طویل محسوس ہوتی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے (دینی) بھائی سے ملاقات کر لیتا، پھر جب وہ اس سے ملتا تو نہایت الفت اور شفقت کے ساتھ پیش آتا اور پوچھتا: ”میرے بعد آپ کا حال کیسا رہا؟“ جبکہ عمومی طور پر (صحابہ کرام کا معمول یہ تھا کہ) کسی شخص پر بھی تین دن کی مدت ایسی نہیں گزرتی تھی کہ وہ اپنے بھائی کی خیریت و احوال سے آگاہ نہ ہو۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے۔