المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 274
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ فَسَقَةٌ ، يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ نَافِلَةً " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران اور ائمہ ہوں گے جو فسق و فجور میں مبتلا ہوں گے، وہ نماز کو اس کے اصل (مستحب اور مسنون) وقت سے ہٹا کر (تاخیر سے) ادا کریں گے، پس جب وہ ایسی روش اپنائیں تو تم نماز کو اس کے صحیح وقت پر ادا کر لیا کرو، اور ان کے ساتھ (دوبارہ باجماعت) پڑھی جانے والی نماز کو اپنے حق میں نفل بنا لینا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے شواہد صحیح مسلم میں موجود ہیں، یہ روایت اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔