المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ عيب النَّاسِ باب: لوگوں کی عیب جوئی کرنے اور ان کی مذمت و نکتہ چینی کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، سُبِقَ بِرَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَقَامَ يَقْضِي ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَعَدَ النَّاسُ حَوَالَيْهِ ، فَلَمَّا قَضَى ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الصَّلَاةَ ، جَاءَ إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ : أَوْسِعْ لِي ، فَأَوْسَعَ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى ثَانٍ ، فَقَالَ لَهُ : أَوْسِعْ لِي ، فَأَوْسَعَ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى ثَالِثٍ ، فَقَالَ : أَوْسِعْ لِي ، فَقَالَ : مِنْ وَرَائِكَ سَعَةٌ ، أَيُّ شَيْءٍ تَخَطَّا النَّاسَ ؟ فَنَظَرَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ فُلَانَةَ ، فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ ذَا الَّذِي عَيَّرَ الرَّجُلَ قُبَيْلُ بِأُمِّهِ ؟ " ، فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ : " مَنْ ذَا الَّذِي عَيَّرَ الرَّجُلَ قُبَيْلُ بِأُمِّهِ ؟ " ، فَقَامَ ثَابِتٌ ، فَقَالَ : إِنِّي سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ ، وَأَنَا فِي أُذُنِي صَمَمٌ ، فَاشْتَهَيْتُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكَ ، وَقَعَدَ النَّاسُ حَوَالَيْكَ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ، قَالَ : فَعَيَّرْتُهُ بِأُمٍّ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، كَانَ غَيْرُهَا مِنَ النِّسَاءِ خَيْرًا مِنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ثَابِتُ بْنَ قَيْسٍ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ فَوْقَ هَذَا الْمَلَأِ ، فِيهِمُ الْأَسْوَدُ ، وَالْأَبْيَضُ ، وَالْأَحْمَرُ ، مَا أَنْتَ بِخَيْرٍ مِنْ هَؤُلَاءِ إِلَّا بِالتَّقْوَى " .
قَالَ : فَمَا عَيَّرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدًا .سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی نمازِ فجر کی ایک رکعت رہ گئی تھی، چنانچہ وہ اسے پورا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اسی دوران نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہوئے اور لوگ آپ ﷺ کے گرد جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنی نماز مکمل کر چکے تو وہ ایک شخص کے پاس آئے اور اس سے کہا: ”میرے لیے جگہ کشادہ کرو،“ اس نے جگہ دے دی۔ پھر وہ دوسرے شخص کے پاس آئے اور اس سے کہا: ”میرے لیے جگہ کشادہ کرو،“ اس نے بھی جگہ دے دی۔ پھر وہ تیسرے شخص کے پاس آئے اور کہا: ”میرے لیے جگہ کشادہ کرو،“ تو اس نے جواب دیا: ”تمہارے پیچھے خاصی جگہ ہے، تمہیں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے؟“ ثابت رضی اللہ عنہ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور غصے میں کہا: ”اے فلاں عورت کے بیٹے!“ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی اور دریافت فرمایا: ”ابھی تھوڑی دیر پہلے اس آدمی کو اس کی ماں کا طعنہ دینے والا کون ہے؟“ لوگ خاموش رہے۔ آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا: ”وہ کون ہے جس نے ابھی اس شخص کو اس کی ماں کا طعنہ دیا ہے؟“ تب ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میری ایک رکعت نکل گئی تھی اور میرے کانوں میں کچھ ثقل (بہرہ پن) ہے، تو میں نے آپ کے قریب بیٹھنے کی خواہش کی جبکہ لوگ آپ کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے،“ پھر انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور عرض کیا: ”میں نے اسے اس کی اس ماں کا طعنہ دیا جو دورِ جاہلیت میں تھی اور دوسری عورتیں اس سے بہتر تھیں،“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ثابت بن قیس! اپنا سر اٹھاؤ اور اس مجمع پر نظر ڈالو، ان میں سیاہ فام، سفید فام اور سرخ رنگ والے ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، جان لو کہ تمہیں ان میں سے کسی پر کوئی برتری اور فضیلت حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے۔“
راوی کا بیان ہے کہ اس واقعے کے بعد میں نے کبھی کسی کو طعنہ نہیں دیا۔