المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ مدح الفاسق باب: فاسق و نافرمان شخص کی مدح و ستائش کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2730
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَابِقٌ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْضَبُ إِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ " .
2730 \ 2 - قَالَ : وَحَدَّثَنِي رَبَاحُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ سَابِقٍ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَزَادَ : وَاهْتَزَّ الْعَرْشُ .
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : هَذَا مِنْ حِفْظِي .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل غضبناک ہوتا ہے جب کسی فاسق (نافرمان اور بدکردار شخص) کی مدح و ستائش کی جائے۔“
اور امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی اسی کے مانند روایت بیان کی ہے جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”اور (اس کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ کا عرش لرز اٹھتا ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ روایت میرے حافظے سے ہے۔