المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الحذر والاحتراس باب: خطروں سے ڈرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے تدبیر کرنے نیز ہمہ وقت بیدار مغز اور محتاط رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2723
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْبُرْ تَقْلَهْ " .ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو آزما کر دیکھ لو (یعنی جب تم ان کے باطنی احوال اور پوشیدہ عیوب سے واقف ہو جاؤ گے) تو تم انہیں ناپسند کرنے لگو گے۔“
اس حدیث کی سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں، نیز بقیہ بن ولید کی تدلیس کی وجہ سے بھی محدثین نے اس کی سند پر کلام کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔