المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الفحش باب: فحش گوئی اور بے حیائی کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَقَالَ : تُصَلِّي عِنْدَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : إِنِّي أُحِبُّهُ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا قَبِيحًا ، ثُمَّ أَدْبَرَ ، فَانْصَرَفَ أُسَامَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لِمَرْوَانَ : إِنَّكَ آذَيْتَنِي ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ ، وَإِنَّكَ فَاحِشٌ مُتَفَحِّشٌ .عبید اللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی قبرِ اطہر کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، تو مروان بن حکم (وہاں سے) نکلا اور کہنے لگا: ”کیا تم ان کی قبر کے پاس نماز پڑھ رہے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”بے شک میں ان سے محبت کرتا ہوں“، اس پر مروان نے ان کے حق میں نہایت نازیبا اور سخت کلام کیا اور پھر پیٹھ پھیر کر چلا گیا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور مروان سے کہا: ”یقیناً تو نے مجھے اپنی گفتگو سے تکلیف پہنچائی ہے، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ بد زبان اور فحش گوئی کرنے والے سے بغض رکھتا ہے، اور تو یقیناً ایک بد زبان اور بے ہودہ گو شخص ہے“۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد نے اپنی مسند (21791) میں اور ابن ابی عاصم نے 'الآحاد والمثانی' (897) میں روایت کیا ہے۔