المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام باب: سلام کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَشْرٌ " ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عِشْرُونَ " ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُونَ " .
أَبُو هَارُونَ ضَعِيفٌ ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ ، وَالدَّارِمِيِّ ، وَالتِّرْمِذِيِّ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”آپ پر سلامتی ہو“، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”دس نیکیاں ملیں گی“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے عرض کیا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیس نیکیاں ملیں گی“، پھر ایک اور شخص حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تیس نیکیاں ملیں گی“۔
اس سند میں موجود راوی ابو ہارون ضعیف ہے، البتہ اس کے لیے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بطورِ شاہد موجود ہے، جسے امام ابوداؤد، دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔