المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام باب: سلام کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2692
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكٍ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ مِنَّا جَمَاعَةٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا أَهْلُ عَالِيَةٍ وَسَافِلَةٍ ، وَلَنَا مَجَالِسُ نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا " ، فَقُلْنَا : وَمَا حَقُّهَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَأَرْشِدُوا الْأَعْمَى ، وَمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ " .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ مِنْ أَجْلِ مُوسَى .ترجمہ
سیدنا مالک رضی اللہ عنہ جو کہ ایک انصاری صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک جماعت اکٹھی ہوئی تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم بالائی اور نشیبی علاقوں کے رہنے والے لوگ ہیں اور ہماری کچھ مخصوص بیٹھکیں ہیں جہاں ہم بیٹھ کر باہم گفتگو کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ان مجلسوں کا حق ادا کیا کرو“، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان مجلسوں کا حق کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی نگاہیں نیچی رکھو، سلام کا جواب دو، نابینا کی رہنمائی کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“
یہ سند موسیٰ بن عبیدہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔