المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ لَا يتناجى اثنان دُونَ الثالث باب: دو آدمیوں کے تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2690
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُؤْمِنَ ، وَاللهُ يَكْرَهُ أَذَى الْمُؤْمِنِ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دو افراد اپنے تیسرے ساتھی کو نظر انداز کر کے آپس میں خفیہ گفتگو اور سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ عمل مومن کے لیے باعثِ دل آزاری و اذیت ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ مومن کو اذیت پہنچانے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ موصلی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حسن بن کثیر نامی راوی کے تفرد کی وجہ سے ضعف موجود ہے، تاہم اس حدیث کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے جو اس کے شرعی مفہوم کی مکمل تائید کرتی ہے۔