❮
❯
حدیث نمبر: 2673
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكُمْ مَا عَلَّمَ نُوحٌ ابْنَهُ ؟ " " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُنَيَّ ، إِنِّي آمُرُكَ بِأَمْرَيْنِ ، وَأَنْهَاكَ عَنْ أَمْرَيْنِ : أَنْهَاكَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا ; فَإِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا ، فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الْكِبْرِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ .
وَآمُرُكَ بِقَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ لَوْ كَانَتْ حَلْقَةً قَصَمَتْهَا ، وَآمُرُكَ بِسُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْخَلْقِ ، وَتَسْبِيحُ الْخَلْقِ ، وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الدَّابَّةُ يَرْكَبُهَا ، أَوِ الثَّوْبُ يَلْبَسُهُ ، أَوِ الطَّعَامُ يَدْعُو عَلَيْهِ أَصْحَابَهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ أَنْ يُسَفِّهَ الْحَقَّ ، وَيَغْمِصَ النَّاسَ ، وَسَأُنْبِئُكُمْ بِخَمْسٍ ، مَنْ كُنَّ فِيهِ فَلَيْسَ مُتَكَبِّرًا : اعْتِقَالُ الشَّاهِ ، وَلُبْسُ الصُّوفِ ، وَرُكُوبُ الْحِمَارِ ، وَمُجَالَسَةُ فُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ مَعَ عِيَالِهِ .
2673 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ بِهِ .
مُوسَى : ضَعِيفٌ ، خَالَفَهُ الصَّقْعَبُ بْنُ زُهَيْرٍ ، فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ بات نہ سکھاؤں جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سکھائی تھی؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں، یا رسول اللہ! ضرور سکھائیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو کاموں سے منع کرتا ہوں: میں تمہیں اس بات سے روکتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ؛ کیونکہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اور میں تمہیں تکبر سے منع کرتا ہوں، کیونکہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
اور میں تمہیں یہ کلمہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے“، کیونکہ اگر تمام آسمان ایک بند حلقے کی مانند ہوتے تو یہ کلمہ انہیں پاش پاش کر دیتا، اور میں تمہیں «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے“ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ تمام مخلوقات کی عبادت اور ان کی تسبیح ہے، اور اسی کی بدولت مخلوق کو رزق عطا کیا جاتا ہے۔“ اس پر ایک شخص نے سوال کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہے کہ آدمی کے پاس سواری کے لیے جانور ہو، یا عمدہ لباس ہو جو وہ پہنتا ہو، یا ایسا کھانا ہو جس پر وہ اپنے دوستوں کی دعوت کرتا ہو؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ تکبر تو حق کی تحقیر کرنے (اسے جھٹلانے) اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے، اور عنقریب میں تمہیں پانچ ایسی باتوں کی خبر دوں گا کہ جس شخص میں وہ موجود ہوں گی وہ متکبر نہیں ہے: بکری کو ٹانگ سے پکڑنا، اونی لباس پہننا، گدھے پر سواری کرنا، مسکین مومنوں کی ہم نشینی اختیار کرنا اور آدمی کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ مل کر کھانا کھانا۔“
امام عبد بن حمید نے کہا کہ ہمیں عبید اللہ بن موسیٰ نے، انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہے، صقعب بن زہیر نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے زید بن اسلم کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2673
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُوسَى : ضَعِيفٌ ، خَالَفَهُ الصَّقْعَبُ بْنُ زُهَيْرٍ ، فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا . »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 154، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6694، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1151، وأخرجه مسند البزار برقم: 2433، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2673 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20520، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 14164، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6656، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14326، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 9088»