المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ حسن الوجه باب: حسین و جمیل چہرے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2660
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ جَبْرَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اطْلُبُوا الْخَيْرَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ " .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم خیر و بھلائی اور اپنی حاجتوں کی طلب ان لوگوں کے پاس کیا کرو جو خوبصورت اور بارونق چہروں والے ہوں (یعنی جن کے بشرے سے شرافت، مروت اور خوش اخلاقی کے آثار عیاں ہوں)۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راویہ جبرہ بنت محمد کی وجہ سے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، البتہ اس مفہوم کے دیگر شواہد بھی نقل کیے گئے ہیں۔