المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام عَلَى الكفار بإكرام الأكابر منهم باب: کفار میں سے ان کے بڑوں اور معززین کی عزت و تکریم کی خاطر انہیں سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2653
وَحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ : إِنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى دِهْقَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : تُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، وَهُوَ كَافِرٌ ؟ قَالَ : إِنَّهُ كَتَبَ إِلَيَّ يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ .ترجمہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دہقان (غیر مسلم فارسی زمیندار) کو خط لکھا اور اپنے خط میں اسے سلام تحریر فرمایا۔ ان سے (بطورِ اعتراض) پوچھا گیا: ”کیا آپ اسے سلام لکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کافر ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس نے مجھے خط لکھا تھا جس میں مجھے سلام کیا تھا، لہٰذا میں نے (جواباً) اسے سلام کا جواب دے دیا ہے۔“
[أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف: 26343، وإسناده صحيح]