المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكذب ومدح الصدق باب: جھوٹ کی مذمت اور سچائی کی تعریف و توصیف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2631
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلَّافٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا يَغُرَّنَّكَ صَلَاةُ امْرِئٍ ، وَلَا صِيَامُهُ ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثَ صَدَقَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ أَدَّى ، وَإِذَا أَشْفَى وَرِعَ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”کسی شخص کی کثرتِ نماز اور اس کے روزے تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالیں، بلکہ (اصل انسان تو وہ ہے کہ) جب وہ بات کرے تو سچ بولے، جب اسے امانت سونپی جائے تو اسے (دیانت داری سے) ادا کرے، اور جب وہ کسی گناہ یا دنیاوی منفعت کے دہانے پر پہنچ جائے تو تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرے۔“
یہ روایت موقوف اور صحیح ہے۔