المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 262
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَبْدِيُّ ، [ حَدَّثَتْنِي ] جَدَّتَايَ ، دُحَيْبَةُ وَصَفِيَّةُ بِنْتَا عُلَيْبَةَ ، عَنْ رَبِيبَتِهِمَا وَجَدَّةِ أَبِيهِمَا قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : ( صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ حِينَ [انْشَقَّ الْفَجْرُ وَ] النُّجُومُ شَابِكَةٌ فِي السَّمَاءِ [مَا نَكَادُ] نَتَعَارَفُ ، وَالرِّجَالُ مَا تَكَادُ تَعَارَفُ ) .ترجمہ
سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب صبح کی روشنی ابھی نمودار ہی ہوئی تھی اور آسمان پر ستارے باہم پیوست (نمایاں) تھے، اندھیرے کی وجہ سے ہم عورتیں ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتی تھیں اور مردوں کا حال بھی یہی تھا کہ وہ بھی ایک دوسرے کو بمشکل ہی پہچان پاتے تھے۔“
اسے امام ابو داؤد طیالسی نے روایت کیا ہے۔