المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 260
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ نَاسٌ إِلَى أَهَالِيهِمْ وَهُمْ يَنْظُرُونَ مَوَاقِعَ النَّبْلِ حِينَ يَرْمُونَهَا " .ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز (اس قدر اول وقت میں) ادا فرماتے تھے کہ پھر جب لوگ (نماز سے فراغت کے بعد) اپنے گھر والوں کی طرف واپس پلٹتے تو (اس وقت اتنی روشنی باقی ہوتی تھی کہ) وہ تیر اندازی کرتے ہوئے اپنے تیروں کے گرنے کے مقامات کو صاف دیکھ رہے ہوتے تھے۔“
اس روایت کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے، اس کی سند میں ابن ابی لیلیٰ اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہیں، لیکن مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا مفہوم دیگر صحیح احادیث میں موجود ہے۔