المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 258
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ ، ثَنَا هُرَيْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَوِّرْ بِلَالُ بِالصُّبْحِ قَدْرَ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ " .ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے بلال! فجر کی نماز میں خوب اجالا کیا کرو «نَوِّرْ بِلَالُ بِالصُّبْحِ قَدْرَ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ» ”اس قدر اجالا کرو کہ لوگ اپنے (چلائے ہوئے) تیروں کے گرنے کے مقامات کو صاف طور پر دیکھ سکیں۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی 'مصنف' میں کی ہے اور یہ روایت فجر کی نماز کو اسفار (اجالے) میں ادا کرنے کی فضیلت کے بیان میں ہے۔