المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، ثَنَا بَلْهَطُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّمْضَاءَ فَلَمْ يُشْكِنَا ، وَقَالَ : " اسْتَعِينُوا بِلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، فَإِنَّهَا تَدْفَعُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ بَابًا مِنَ الضَّرَّاءِ أَدْنَاهَا الْهَمُّ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (نمازِ ظہر کے وقت) زمین کی تپش اور شدید گرمی کی شکایت کی، لیکن آپ ﷺ نے ہماری اس شکایت پر (وقت میں تبدیلی کر کے) ہمیں ریلیف فراہم نہیں کیا اور ارشاد فرمایا: ”تم «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ کی مدد و توفیق کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے اور نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے“ کے ذریعے مدد حاصل کیا کرو، کیونکہ یہ کلمہ تکلیف اور پریشانی کے ننانوے ابواب کو دفع کر دیتا ہے، جن میں سب سے کم تر درجہ غم و فکر ہے“۔
اس حدیث کو امام ابن ابی عمر العدنی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں بلهط بن عباد نامی راوی ضعیف ہے، نیز اس کا ابتدائی حصہ (شکایت والا) صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔