المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَفْضَلُ مَا أُوتِيَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " الْخُلُقُ الْحَسَنُ " ، قَالَ : فَمَا شَرُّ مَا أُوتِيَ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " إِذَا كَرِهْتَ أَنْ يُرَى عَلَيْكَ شَيْءٌ فِي نَادِي الْقَوْمِ ، فَلَا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ " .قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک مسلمان مرد کو جو کچھ عطا کیا گیا ہے اس میں سب سے افضل و برتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عمدہ اخلاق“، دریافت کیا گیا: تو ایک مسلمان کو دی جانے والی چیزوں میں سب سے بری بات کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم یہ ناپسند کرو کہ لوگوں کی مجلس میں تمہاری کوئی کیفیت یا عمل دیکھا جائے، تو جب تم تنہائی میں ہو تب بھی اسے انجام نہ دیا کرو۔“
اس حدیث کو امام عبدالرزاق نے المصنف میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، البتہ اس کا ابتدائی حصہ حسنِ اخلاق کے متعلق دیگر مستند روایات سے تائید یافتہ ہے۔