❮
❯
حدیث نمبر: 2575
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَفْضَلُ مَا أُوتِيَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " الْخُلُقُ الْحَسَنُ " ، قَالَ : فَمَا شَرُّ مَا أُوتِيَ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " إِذَا كَرِهْتَ أَنْ يُرَى عَلَيْكَ شَيْءٌ فِي نَادِي الْقَوْمِ ، فَلَا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ " .
ترجمہ

قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک مسلمان مرد کو جو کچھ عطا کیا گیا ہے اس میں سب سے افضل و برتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عمدہ اخلاق“، دریافت کیا گیا: تو ایک مسلمان کو دی جانے والی چیزوں میں سب سے بری بات کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم یہ ناپسند کرو کہ لوگوں کی مجلس میں تمہاری کوئی کیفیت یا عمل دیکھا جائے، تو جب تم تنہائی میں ہو تب بھی اسے انجام نہ دیا کرو۔“
اس حدیث کو امام عبدالرزاق نے المصنف میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، البتہ اس کا ابتدائی حصہ حسنِ اخلاق کے متعلق دیگر مستند روایات سے تائید یافتہ ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2575
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2574 / 1، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20151، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25840»