❮
❯
حدیث نمبر: 2535
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ : " تُقَامُ الصَّلَاةُ وَيَدْعُونِي وَالِدِي ؟ قَالَ : أَجِبْ وَالِدَكَ " .
ترجمہ

عوام بن حوشب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (جلیل القدر تابعی) امام مجاہد رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ”نماز کے لیے اقامت کہی جا رہی ہو اور (عین اسی وقت) میرا والد مجھے پکارے (تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے)؟“ امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اپنے والد کی پکار کا جواب دو (اور ان کی پکار پر لبیک کہو)۔“
اس اثر کی تخریج امام مسدد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں کی ہے، یہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اطاعت کی غیر معمولی اہمیت پر دلالت کرتا ہے کہ جماعت کے انتظار یا نفل کاموں کے مقابلے میں والد کی پکار کا جواب دینا شرعی طور پر نہایت پسندیدہ عمل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2535
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8099»