المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الكي باب: داغنے (یعنی گرم چیز سے جلا کر علاج کرنے) کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنِي أَصَابَهُ مَا تَرَى ؟ أَفَأَكْوِيهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْوِي ابْنَكِ " فَأَجْمَعَتْ عَلَى أَنْ لَا تَكْوِيَهُ ، فَعَثَرَ بِهِ بَعِيرٌ فَخَبَطَهُ ، أَوْ لَبَطَهُ ، فَفَقَأَ بَطْنَهُ ، فَبَرَأَ ، فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ، اسْتَأْذَنْتُكَ فِي ابْنِي أَنْ تَكْوِيَهُ فَنَهَيْتَنِي ، فَمَرَّ بِهِ بَعِيرٌ فَخَبَطَهُ أَوْ لَبَطَهُ ، فَفَقَأَ وَبَرَأَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنِّي لَوْ أَذِنْتُ لَكِ لَزَعَمْتِ أَنَّ النَّارَ هِيَ الَّتِي شَفَتْهُ " .علاء بن زیاد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں جس کا پیٹ (استسقاء کی بیماری کی وجہ سے) پھول گیا تھا، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے کو یہ بیماری لاحق ہے جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں، کیا میں اسے آگ سے داغ دوں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے بیٹے کو مت داغو۔“ اس خاتون نے پختہ ارادہ کر لیا کہ وہ اسے نہیں داغے گی، پھر (اتفاقاً) ایک اونٹ لڑکھڑا کر اس بچے پر گر پڑا یا اسے زور سے ٹکر ماری (کچل دیا)، جس سے اس کا پیٹ پھٹ گیا اور وہ تندرست ہو گیا، وہ خاتون پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں نے آپ سے اپنے بیٹے کو داغنے کی اجازت مانگی تھی مگر آپ نے مجھے روک دیا تھا، پھر ایک اونٹ اس کے پاس سے گزرا جس نے اسے ٹکر ماری یا کچل دیا، جس سے اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اب وہ شفایاب ہے،“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر میں تمہیں (داغنے کی) اجازت دے دیتا تو تم یقیناً یہی گمان کرتیں کہ آگ ہی نے اسے شفا دی ہے۔“
یہ روایت مسند الحارث (زوائد الہیثمی) میں موجود ہے، تاہم علاء بن زیاد تابعی ہونے کی وجہ سے یہ روایت مرسل ہے۔