❮
❯
حدیث نمبر: 2504
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : اشْتَكَى رَجُلٌ مِنَّا شَكْوَى شَدِيدَةً ، فَقَالَ الْأَطِبَّاءُ : لَا يَبْرَأُ إِلَّا بِالْكَيِّ ، فَأَرَادَ أَهْلُهُ أَنْ يَكْوُوهُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا ، حَتَّى نَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْمَرُوهُ ، فَقَالَ : " لَا " فَبَرَأَ الرَّجُلُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَذَا صَاحِبُ بَنِي فُلَانٍ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا لَوْ كُوِيَ لَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا أَبْرَأَهُ الْكَيُّ .
مُجَالِدٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے کا ایک شخص سخت بیمار ہو گیا، تو اطباء نے کہا کہ یہ داغنے کے سوا تندرست نہیں ہوگا، چنانچہ اس کے گھر والوں نے اسے داغنے کا ارادہ کیا لیکن ان میں سے بعض نے کہا کہ نہیں، جب تک ہم رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت نہ کر لیں، پس انہوں نے آپ ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر وہ شخص (بغیر داغے ہی) شفایاب ہو گیا، پس جب رسول اللہ ﷺ نے اسے (تندرست) دیکھا تو دریافت فرمایا: ”کیا یہ وہی فلاں خاندان کا آدمی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ شخص اگر داغ دیا جاتا تو لوگ ضرور یہ کہتے کہ اسے تو صرف داغنے ہی نے شفا دی ہے۔“
مجالد ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2504
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُجَالِدٌ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 2، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7849، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3906»