المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الرقى باب: دم اور جھاڑ پھونک کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَوْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذِهِ الْكَلِمَاتُ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ ، وَأَسْمَائِهِ كُلِّهَا عَامَّةً ، مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهَامَّةِ ، وَشَرِّ الْعَيْنِ اللَّامَّةِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ شَرِّ ابْنِ قَتَرَةَ وَمَا وَلَدَ ، ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَتَوْا رَبَّهُمْ ، فَقَالُوا : وَصِبٌ بِأَرْضِنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مِنْ تُرْبَةِ أَرْضِكُمْ فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيكُمْ ، رُقْيَةُ مُحَمَّدٍ ، مَنْ أَخَذَ عَلَيْهَا صَفَدًا أَوْ كَتَمَهَا أَحَدًا ، فَلَا يُفْلِحُ أَبَدًا " .
2481 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بِهِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کلمات ہر بیماری کی دوا ہیں: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ ، وَأَسْمَائِهِ كُلِّهَا عَامَّةً ، مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهَامَّةِ ، وَشَرِّ الْعَيْنِ اللَّامَّةِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَمِنْ شَرِّ ابْنِ قَتَرَةَ وَمَا وَلَدَ» ”میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات اور اس کے تمام تر بابرکت ناموں کی پناہ میں آتا ہوں ہر زہریلے جانور اور موذی کیڑے مکوڑے کے شر سے، اور ہر اس نظرِ بد کے شر سے جو (انسان کو) لگ جائے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ﴿وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ [سورة الفلق: 5]، اور چھوٹے زہریلے سانپ اور اس کی نسل کے شر سے۔“ (آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ) ”تینتیس فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہماری زمین میں بیماری و تکلیف پھیل گئی ہے، (اس پر) آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی زمین کی مٹی لو اور اسے اپنی پیشانیوں پر ملو، یہ محمد (ﷺ) کا دم ہے؛ اور جس شخص نے اس پر کوئی صلہ یا اجرت لی یا اسے کسی (ضرورت مند) سے چھپایا، وہ کبھی فلاح نہیں پائے گا۔“
اسے امام ابو یعلیٰ اور امام بزار نے روایت کیا ہے۔