المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُؤَذِّنِينَ باب: مؤذنوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ ، بِعَبَّادَانَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْأَيْلِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا جَنَابِذَ مِنْ لُؤْلُؤٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ فَقَالَ : لِلْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ مِنْ أُمَّتِكَ "
مُحَمَّدٌ شَيْخُ أَبِي يَعْلَى ضَعِيفٌ جِدًّا .ترجمہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے وہاں موتیوں کے بنے ہوئے بلند و بالا قبے اور گنبد نما محلات دیکھے، میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کن لوگوں کے لیے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ کی امت کے مؤذنوں اور امامت کے فرائض سرانجام دینے والے ائمہ کے لیے ہیں۔“
امام ابو یعلیٰ کے استاد محمد بن ابراہیم الشامی سخت ضعیف راوی ہیں۔