❮
❯
حدیث نمبر: 2358
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَحْسَبُهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَخَذْتُ قَوْسِي فَاصْطَدَمْتُ طُيُورًا ، فَفِيهَا مَا أَدْرَكْتُ ذَكَاتَهُ ، وَفِيهَا مَا لَمْ أُدْرِكْ ، فَلَقِيتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، وَجَعَلْتُ أَعْزِلُ الذَّكِيَّ ، فَقَالُوا : مَا هَذَا ؟ فَقُلْتُ : هَذَا مَا أَدْرَكْتُ ذَكَاتَهُ ، وَهَذَا مَا لَمْ أُدْرِكْهُ ، فَخَلَطُوهُ جَمِيعًا ، وَقَالُوا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ .
ترجمہ

عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے، میرا خیال ہے وہ عبدالرحمن تھے، فرمایا: میں نے اپنی کمان لی اور اس سے کچھ پرندوں کا شکار کیا؛ ان میں سے بعض کو میں نے ذبح کر لیا تھا (یعنی زندہ پا کر شرعی طریقے سے ذبح کیا تھا)، جبکہ بعض کی ذکات کو میں نہیں پا سکا (یعنی وہ تیر لگنے سے مر چکے تھے یا میں انہیں ذبح نہ کر پایا تھا)۔ چنانچہ میں سیدنا ابن مسعود، سیدنا زید بن ثابت، اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے ملا اور میں نے شرعی طریقے سے ذبح شدہ پرندوں کو الگ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے بتایا: یہ وہ ہیں جن کو میں نے ذبح کیا ہے اور یہ وہ ہیں جن کو میں ذبح نہیں کر سکا۔ تو انہوں نے سب کو آپس میں ملا دیا اور ”ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو کچھ تیری کمان تجھے (شکار کرکے) واپس کرے اسے کھا لو۔““

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيد / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18990، وأخرجه مسند أحمد برقم: 17701»