المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ مَا يكره أكله باب: مکروہ کھانوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2344
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَلْمَى بِنْتِ نَصْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُرَّةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ جُلَّ مَا لِي فِي الْحُمُرِ ، أَفَأُصِيبُ مِنْهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ تَرْعَى الْفَلَاةَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ؟ . قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : فَأَصِبْ مِنْهَا .ترجمہ
بنی مرہ کے ایک شخص سے روایت ہے، اس نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرا اکثر مال گدھوں میں ہے، کیا میں ان (کے گوشت) سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ کھلے میدانوں میں نہیں چرتے اور درختوں کے پتے نہیں کھاتے؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں (ضرور چرتے اور کھاتے ہیں)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ان سے (فائدہ) حاصل کر سکتے ہو۔“