المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ مَا يكره أكله باب: مکروہ کھانوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْقَافِلَانِيُّ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ وَهُوَ يَقُولُ : أَيْنَ اللَّحَّامُونَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ، لَا تَأْكُلُوا الْحَشَا . قَالَ النَّضْرُ : يَعْنِي الطِّحَالَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّمَّاكُونَ ؟ فَقَالُوا : هَؤُلَاءِ ، فَسَارَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ، أَلَا تَأْكُلُوا مِنَ الصِّلَّوْرِ وَلَا الْأَنْقَلِيسَ . قَالَ النَّضْرُ : أَحَدُهُمَا الْجِرِّيُّ ، وَالْآخَرُ : مَرَمَاهِيُّ .
( 101 ) 2341 - وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي السَّمَكِ فِي تَفْسِيرِ الْمَائِدَةِ .ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے سفید خچر پر سوار دیکھا۔ وہ فرما رہے تھے: ”قصاب کہاں ہیں؟“ پھر انہوں نے کہا: ”میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کر آیا ہوں، تم آلائشیں (فالتو حصے) نہ کھاؤ۔“ نضر بن شمیل کہتے ہیں: اس سے مراد تلی ہے۔ پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مچھلی فروش کہاں ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ رہے!“ تو وہ چلتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کر آیا ہوں، خبردار! صِلَّور اور اَنقَلیس نہ کھانا۔“ نضر بن شمیل کہتے ہیں: ان میں سے ایک جِرّی (ایک قسم کی مچھلی) ہے اور دوسرا مَرماہی (ایک اور قسم کی مچھلی) ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت جو مچھلی کے بارے میں ہے، وہ سورة المائدة کی تفسیر میں موجود ہے۔