❮
❯
حدیث نمبر: 2339
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا الْمُخْتَارُ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ : خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا رَجُلٌ يُنَادِي خَلْفِي ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَمَشَيْتُ خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عَلَى أَصْحَابِ السَّمَكِ فَقَالَ : لَا يُبَاعُ فِي سُوقِنَا طَافٍ " .
ترجمہ

ابو مطر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں مسجد سے باہر نکلا تو اچانک ایک شخص میرے پیچھے سے پکار رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ مچھلی فروشوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: «لَا يُبَاعُ فِي سُوقِنَا طَافٌ» “ہمارے بازار میں ’طاف‘ یعنی (پانی میں مری ہوئی یا بوسیدہ ہو کر) تیرنے والی مچھلی فروخت نہ کی جائے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الذبائح / حدیث: 2339
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 20351، وأخرجه مسند أحمد برقم: 1370، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 295، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 96، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1339 / 1»