المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ حل مَا ليس لَهُ ناب باب: ان جانوروں کی حلت کا بیان جن کے کچلی والے (شکاری) دانت نہیں ہوتے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : أُهْدِيَ لَنَا ضَبٌّ فَصَنَعْتُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِهَا فَأَتْحَفَتْهُمَا بِهِ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ ، فَوَضَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ رَفَعَهَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : ضَبٌّ أُهْدِيَ لِي فَصَنَعْتُهُ ، فَطَرَحَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَا لِيَطْرَحَا مَا فِي أَيْدِيهِمَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلَا فَإِنَّكُمَا أَهْلَ نَجْدٍ تَأْكُلُونَهَا ، وَإِنَّا أَهْلَ تِهَامَةَ نَعَافُهَا .سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو یزید بن اصم کی خالہ تھیں، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں ایک گوہ ہدیہ کی گئی تو میں نے اسے پکایا، پھر میری قوم کے دو آدمی میرے پاس آئے تو میں نے وہ (پکی ہوئی گوہ) ان کے سامنے پیش کر دی، اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ وہ دونوں اسے کھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ (کھانے کی طرف) بڑھایا اور پھر اسے اٹھا لیا، اور پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”یہ ایک گوہ ہے جو مجھے ہدیہ کی گئی تھی تو میں نے اسے پکایا ہے،“ تو آپ ﷺ نے اسے (کھانے سے) الگ کر دیا، یہ دیکھ کر وہ دونوں (مہمان) بھی اپنے ہاتھ میں موجود لقموں کو پھینکنے لگے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”کھاؤ! کیونکہ تم اہل نجد سے ہو (اور) اسے کھاتے ہو، جبکہ ہم اہل تہامہ اسے ناپسند کرتے ہیں۔“