المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ التَّسْمِيَةِ باب: تسمیہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لینے اور بسم اللہ پڑھنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2319
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَخْبَرَنِي عَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِذَا ذَبَحَ الْمُسْلِمُ وَنَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللهِ تَعَالَى ، فَلْيَأْكُلْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ فِيهِ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى " .
قَالَ : يَعْنِي بِقَوْلِهِ : " أَخْبَرَنِي عَيْنٌ " : أَيْ عِكْرِمَةُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان جانور ذبح کرے اور اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے تو وہ (اس ذبیحہ کو) کھا لے، کیونکہ مسلمان کا وجود بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام (مثلاً: ’السلام‘، جس سے ’اسلام‘ اور ’مسلم‘ کے الفاظ مشتق ہیں) سے نسبت رکھتا ہے۔“
(اس حدیث کے ایک راوی نے) وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”أَخْبَرَنِي عَيْنٌ“ (یعنی ایک نامعلوم شخص نے مجھے خبر دی) سے (عمرو بن دینار کی) مراد عکرمہ تھی۔