المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العقيقة وَمَا يَصْنَعُ بالمولود باب: عقیقہ اور نومولود کے ساتھ کیے جانے والے اعمال و احکام کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : فَعَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا شَاتَيْنِ شَاتَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى وَقَالَ : اذْبَحُوا عَلَى اسْمِ اللهِ وَقُولُوا : بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ . قَالَتْ : وَكَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُؤْخَذُ قُطْنَةٌ فَتُجْعَلُ فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْعَلَ مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو ہم وزن بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ساتویں دن دو دو بکریاں ذبح فرمائیں۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ بچے کے سر سے گندگی کو دور کیا جائے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نام پر ذبح کرو اور کہو: «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ» (اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ (قربانی) تیری طرف سے اور تیرے لیے ہے، یہ فلاں کی عقیقہ ہے۔)“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اور دورِ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ روئی کا ٹکڑا لیا جاتا، اسے عقیقے کے خون میں ڈبو کر بچے کے سر پر رکھ دیا جاتا تھا۔ پس رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ خون کی جگہ خلوق (ایک خوشبودار چیز) لگائی جائے۔“