المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّأْذِينِ قَبْلَ الْفَجْرِ فِي رَمَضَانَ باب: رمضان المبارک میں طلوعِ فجر سے پہلے اذان دینے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، قَالَ : قَالَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَذَّنْتُ بِلَيْلٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنَعْتَ النَّاسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، انْطَلِقْ فَاصْعَدْ فَنَادِ : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ " ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا أَقُولُ :
لَيْتَ بِلَالًا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمٍ جَبِينُهْ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ ، هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَفِيهِ انْقِطَاعٌ .سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے رات کے وقت (یعنی وقتِ فجر سے پہلے ہی) اذان دے دی، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے لوگوں کو کھانے اور پینے سے روک دیا ہے، جاؤ اور بلندی پر چڑھ کر یہ پکارو: ”خبردار! بیشک (اللہ کے اس) بندے کو نیند آ گئی تھی (جس کی وجہ سے وقت کا صحیح اندازہ نہ ہو سکا)۔““ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (اپنی اس لغزش پر ندامت کے باعث) یہ کہتے ہوئے روانہ ہوا: «لَيْتَ بِلَالًا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمٍ جَبِينُهْ» ”کاش بلال کو اس کی ماں نے پیدا ہی نہ کیا ہوتا اور اس کی پیشانی خون کے چھینٹوں سے تر بتر ہو جاتی۔“ پھر میں نے تین مرتبہ بلند آواز سے یہ منادی کی: ”آگاہ رہو! بیشک (اللہ کے اس) بندے کو نیند آ گئی تھی۔“
یہ سند ضعیف ہے اور اس میں انقطاع (سلسلہِ سند کا ٹوٹنا) پایا جاتا ہے۔