المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2286–2303) باب: (احادیث 2286 تا 2303)
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا قَزَعَةُ ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ جُنَادَةَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ بِجَذَعٍ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٍ سَيِّدٍ ، وَجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ مَهْزُولٍ خَسِيسٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ مَهْزُولٌ خَسِيسٌ ، وَهَذَا جَذَعٌ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٌ سَيِّدٌ ، وَهُوَ خَيْرُهُمَا ، أَفَأُضَحِّي بِهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَحِّ بِهِ فَإِنَّ اللهَ [يُحِبُّ] الْخَيْرَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا اور وہ اپنے ساتھ بکری کا ایک فربہ، عمدہ اور نمایاں بچہ لایا اور بھیڑ کا ایک لاغر، کمزور اور کم حیثیت بچہ لایا، پھر اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ بھیڑ کا بچہ لاغر، کمزور اور کم حیثیت ہے اور یہ بکری کا بچہ فربہ، عمدہ اور نمایاں ہے، اور یہ دونوں میں سے بہتر ہے، تو کیا میں اس کی قربانی کروں؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسی کی قربانی کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بھلائی کو پسند فرماتا ہے۔“