المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الخاتم باب: انگوٹھی سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2276
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيَّةِ ، وَالْمِيثَرَةِ ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْمُفَدَّمِ . قَالَ يَزِيدُ : فَقُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا الْقَسِّيَّةُ ؟ قَالَ : ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ بِحَرِيرٍ تُصْنَعُ بِمِصْرَ قَدْ رَأَيْتُهَا . قُلْتُ : فَمَا الْمُفَدَّمُ ؟ قَالَ : الْمُشَبَّعَةُ بِالْمُعَصْفَرِ " .ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے قَسِّیَّہ، مِیثَرَہ، سونے کی انگوٹھی اور مُفَدَّم سے منع فرمایا ہے۔“
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں: ”میں نے حسن بن سہیل سے پوچھا: قَسِّیَّہ کیا ہے؟“ (حسن بن سہیل نے) فرمایا: ”یہ ریشم کے دھاگوں سے بنی ہوئی دھاری دار چادریں یا لباس ہے جو مصر میں تیار ہوتا تھا، میں نے انہیں دیکھا ہے۔“ (یزید بن ابی زیاد نے) پوچھا: ”اور مُفَدَّم کیا ہے؟“ (حسن بن سہیل نے) فرمایا: ”ایسا کپڑا جسے زعفرانی رنگ (عصفر) سے خوب رنگا گیا ہو یہاں تک کہ وہ گہرا رنگ اختیار کر لے۔“