المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الخاتم باب: انگوٹھی سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2268
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ قَالَ : دَخَلَ زِيَادٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " اتَّخَذْتُمْ حِلَقَ الذَّهَبِ . قَالَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَكِنَّ خَاتَمِي مِنْ حَدِيدٍ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ذَلِكَ أَنْتَنُ وَأَخْبَثُ ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَخَتِّمًا فَلْيَتَخَتَّمْ بِخَاتَمٍ [مِنْ] فِضَّةٍ .ترجمہ
عبدالرحمن صاحب السقایۃ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ زیاد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے سونے کی انگوٹھیاں (پہننا) اختیار کر لیا ہے؟“ اس پر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”لیکن میری انگوٹھی تو لوہے کی ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ (لوہے کی انگوٹھی) تو اس سے بھی زیادہ بدبودار اور ناپاک ہے، تم میں سے جو کوئی بھی انگوٹھی پہننا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ چاندی کی انگوٹھی پہنے۔“