المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ الحرير عَلَى الرجال وإباحته للنساء وَجَوَازِ بيعه لِمَنْ يجوز لَهُ لبسه باب: مردوں پر ریشم کی حرمت، عورتوں کے لیے اس کی اجازت اور جائز پہننے والے کو فروخت کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ حُلَّةُ حَرِيرٍ سِيَرَاءُ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَاحَ وَهِيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي لَا أَرْضَى لَكَ إِلَّا مَا أَرْضَى لِنَفْسِي ، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، إِنِّي كَسَوْتُهَا لِتَجْعَلَهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ .
فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، نَفْسِهِ .سیدتنا ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک دھاری دار ریشمی لباس تحفے میں دیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے پہن کر حاضر خدمت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمہارے لیے وہ پسند نہیں کرتا جو اپنے لیے پسند نہ کروں (یعنی ریشم کا لباس)، میں نے تمہیں یہ لباس اس لیے نہیں دیا تھا کہ تم اسے پہنو، بلکہ میں نے تمہیں یہ اس لیے دیا تھا کہ تم اسے فاطمات (یعنی اپنے گھر کی خواتین جیسے سیدہ فاطمہ اور دیگر خواتین) کے لیے اوڑھنیاں بنا دو۔“
اس کی سند میں کچھ ضعف ہے، اور اس کی تائید سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کی ایک حدیث سے ہوتی ہے۔