المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ اسْتِحْبَابِ تَرْكِ التنعم والترفه باب: عیش و عشرت اور ناز و نعم والی پُرتکلف زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2222
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : اشْتَرَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَمِيصَيْنِ سُنْبُلَانِيَّيْنِ أَنْبِجَانِيَّيْنِ بِسَبْعَةِ دَرَاهِمَ ، فَكَسَى قَنْبَرً أَحَدَهُمَا . فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَلْبَسَ إِذَا إِزَارُهُ مَرْقُوعٌ رُقْعَةً مِنْ أَدَمٍ " .ترجمہ
سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سات درہم میں سنبلانی اور انبجانی قسم کی دو قمیصیں خریدیں۔ پھر انہوں نے ان میں سے ایک قمیص قنبر (اپنے غلام) کو پہنا دی، اور جب خود دوسری قمیص پہننے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ان کی ازار (تہبند) چمڑے کے ایک پیوند سے مرمت شدہ تھی۔