المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ لبس الثَّوْبِ وجره مِنْ الخيلاء إِلَّا لضرورة باب: تکبر سے لباس پہننے اور لٹکانے کی ممانعت، سوائے ضرورت کے، کا بیان۔
حدیث نمبر: 2214
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِي آخِرِهِ : وَإِيَّاكَ وَجَرَّ الْإِزَارِ ; فَإِنَّ جَرَّ الْإِزَارِ مِنَ الْمَخِيلَةِ .
قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (راوی نے) پوری حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں (آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی تھا کہ): ”خبردار! تہبند (یعنی نچلے لباس) کو ٹخنوں سے نیچے گھسیٹنے سے بچو، کیونکہ (فخر و تکبر سے) تہبند کو گھسیٹنا خود پسندی اور غرور میں سے ہے۔“
میں (محدث) کہتا ہوں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث صحیح (مستند کتبِ حدیث) میں ان الفاظ سے مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔