المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ لبس الثَّوْبِ وجره مِنْ الخيلاء إِلَّا لضرورة باب: تکبر سے لباس پہننے اور لٹکانے کی ممانعت، سوائے ضرورت کے، کا بیان۔
حدیث نمبر: 2212
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْمُحَبَّرُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ : وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَاخْتَالَ فِيهِ خُسِفَ بِهِ مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيُجَلْجِلُ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ؛ لِأَنَّ قَارُونَ لَبِسَ حُلَّةً فَاخْتَالَ ، فَخُسِفَ بِهِ فَهُوَ يُجَلْجِلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی فرمایا: ”جو شخص کوئی کپڑا پہنے اور اس میں اکڑ کر چلے (یعنی تکبر کا مظاہرہ کرے)، اسے جہنم کے کنارے سے زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر وہ اس میں اس وقت تک لڑھکتا اور گرتا رہے گا جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ یہ اس لیے کہ قارون نے ایک قیمتی جوڑا پہنا تھا اور اس میں تکبر سے اکڑ کر چلا تھا، تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا تھا اور وہ قیامت کے دن تک اسی میں لڑھکتا اور گرتا رہے گا۔“