المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ لبس الثَّوْبِ وجره مِنْ الخيلاء إِلَّا لضرورة باب: تکبر سے لباس پہننے اور لٹکانے کی ممانعت، سوائے ضرورت کے، کا بیان۔
حدیث نمبر: 2210
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : " حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادً النُّمَيْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَ فِي بُرْدَيْنِ ، فَاخْتَالَ فِيهِمَا ، فَأَمَرَ اللهُ [تَبَارَكَ وَتَعَالَى] الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں سے ایک شخص دو قیمتی چادریں پہن کر نکلا اور ان میں اِترا کر چلنے لگا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اسے پکڑ لیا (اور نگل لیا)، چنانچہ وہ قیامت کے دن تک زمین کی گہرائیوں میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔“