المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ لَا تقبل شهادته وترد باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : كَتَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فَقَالَ : لَا تَجُوزُ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ ، [وَعَنْ زَنْجٍ نَحَرُوا حِمَارًا أَنْ ضَمِنَ سَيِّدُهُمْ فَلَا قَطْعَ عَلَيْهِمْ] " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے بچوں کی گواہی کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ (گواہی) جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [سورة البقرة: 282] (جن گواہوں کو تم پسند کرو)۔ اور (انہی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے) زنجی غلاموں کے بارے میں روایت ہے جنہوں نے ایک گدھے کو ذبح کر ڈالا تھا، تو ان کے آقا نے اس (گدھے) کا تاوان ادا کر دیا، لہٰذا ان (غلاموں) پر ہاتھ کاٹنے کی حد نافذ نہیں کی جائے گی۔