المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ لَا تقبل شهادته وترد باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 2195
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى حِينَ انْتَهَى إِلَى الثَّنِيَّةِ ، فَقَالَ : لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ ، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ .
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ .ترجمہ
سیدنا طلحة بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا، چنانچہ اس نے جب گھاٹی کے قریب پہنچا تو پکار کر کہا: ”کسی فریقِ مخاصمت (یعنی جو کسی تنازع میں فریق ہو، خواہ مدعی ہو یا مدعا علیہ) اور کسی مشکوک شخص (جس کی صداقت یا دیانت پر شک ہو) کی گواہی قابل قبول نہیں ہے، اور قسم مدعا علیہ پر لازم ہوتی ہے۔“
اسے ابوداؤد نے اپنی کتاب "المراسيل" میں روایت کیا ہے۔