المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القضاء بالبينة واليمين مَعَ الشاهد باب: دلیل اور ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2190
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : كَانَ شُرَيْحٌ يَقُولُ : شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّكُمَا تَفَرَّقْتُمَا عَنْ تَرَاضٍ بَعْدَ الْبَيْعِ أَوْ تَخَايُرٍ ، وَإِلَّا يَمِينُهُ بِاللهِ مَا تَفَرَّقْتُمَا عَنْ تَرَاضٍ بَعْدَ الْبَيْعِ أَوْ تَخَايُرٍ " .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ عَلَى شُرَيْحٍ .ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ شریح رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”دو عادل گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ تم دونوں (یعنی بیچنے والا اور خریدار) خرید و فروخت کے بعد یا خیارِ مجلس (خرید و فروخت کو باقی رکھنے یا ختم کرنے کے اختیار) کے بعد باہمی رضامندی سے جدا ہوئے تھے، اور اگر ایسے گواہ نہ ہوں تو پھر اس (دعویٰ کرنے والے) کی اللہ کی قسم ہو کہ تم دونوں خرید و فروخت کے بعد یا خیارِ مجلس کے بعد باہمی رضامندی سے جدا نہیں ہوئے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے اور یہ قول شریح رحمہ اللہ پر موقوف ہے۔