المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القضاء بالبينة واليمين مَعَ الشاهد باب: دلیل اور ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2189
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ .
2189 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَا : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلطَّالِبِ بَيِّنَةٌ ، فَعَلَى الْمَطْلُوبِ الْيَمِينُ لَفْظُ إِسْحَاقَ " .
وَقَالَ الْآخَرُ : مَنْ طَلَبَ طَلِبَةً بِغَيْرِ شُهُودٍ ، فَالْمَطْلُوبُ هُوَ أَوْلَى بِالْيَمِينِ .
2189 \ 3 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : وَحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ ”جب مُدَّعِی (دعوٰی کرنے والے) کے پاس کوئی بَيِّنَہ (ثبوت یا گواہ) نہ ہو، تو مُدَّعٰی عَلَیْہ (جس پر دعوٰی کیا گیا ہو) کے ذمے قَسَم اٹھانا ہے،“ یہ امام اسحاق کے بیان کردہ الفاظ ہیں۔
اور دوسرے راوی (محمد بن بشر) کے الفاظ یہ ہیں کہ ”جو شخص گواہوں کے بغیر کوئی مطالبہ کرے، تو جس سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ قَسَم اٹھانے کا زیادہ حق دار ہے۔“
نیز امام اسحاق نے بیان کیا کہ ہمیں ابو معاویہ نے حجاج کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی۔