المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الطاعة وَأَنَّ الدين قد يؤيد بالفاجر باب: اطاعت کی ترغیب اور فاجر شخص کے ذریعے دین کی تائید ہونے کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْعَجْلَانِ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ بِمِثْلِهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ كَتَبَتْ إِلَى أَهْلِ الْعِرَاقِ أَنَّ اللهَ بَرِيءٌ ، وَبَرَّى رَسُولَهُ مِمَّنْ شَايَعَ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، فَلَا تُشَايِعُوا وَلَا تُفَارِقُوا ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ .اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمیں بقیہ بن ولید نے خبر دی، ان سے ثابت بن عجلان نے بیان کیا، وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے حدیث بیان کی جس نے اس کے مثل سنا تھا اور وہ نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صَحَابَہؓ میں سے تھے کہ ام المؤمنین سَیِّدَہ اُمِّ سَلَمَہؓ نے اہل عراق کی جانب لکھا کہ ”بے شک اللہ تعالیٰ بَری الذمہ ہے، اور اس نے اپنے رسول ﷺ کو بھی اس شخص سے بَری الذمہ قرار دیا ہے جس نے گروہ بندی کی اور جَمَاعَت سے علیحدگی اختیار کی، پس تم ہرگز نہ تو گروہ بندی کرنا اور نہ ہی جماعت سے جُدا ہونا، «وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» “تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو”۔“
یہ روایت امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی سند سے منقول ہے جس میں ایک صحابیِ رسول ﷺ کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ مکتوب بیان کیا گیا ہے۔