❮
❯
حدیث نمبر: 2110
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمًا الْأَحْوَلَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَايَعْتُهُ وَأَنَا غُلَامٌ ، عَلَى كِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ ، هِيَ لَنَا وَهِيَ عَلَيْنَا ، فَضَحِكَ وَبَايَعَنِي .
ترجمہ

حضرت عَمرو بن عَطِیَّہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں سیدنا عُمَر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کی جب کہ میں ابھی لڑکا ہی تھا؛ یہ عہد و پیمان «عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ وَسُنَّۃِ نَبِیِّہِ، ہِیَ لَنَا وَہِیَ عَلَیْنَا» ”اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی پر مبنی تھا، جو (شریعت) ہمارے حق میں (سراسر خیر) ہے اور ہم پر (بطورِ فریضہ) لازم ہے“، تو وہ (میری یہ پختہ گفتگو سن کر) ہنس پڑے اور میری بیعت قبول فرما لی۔“
اس روایت کو امام مُسَدَّد بن مُسَرْہَد نے اپنی تالیف میں نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد رجاله ثقات غير عمرو بن عطية، فلم أجد فيه جرحًا ولا تعديلًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»