المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فدي الأسارى باب: قیدیوں کے فدیے اور ان کو رہا کروانے سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2084
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَيْسَ عَلَى عَرَبِيٍّ مِلْكٌ ، وَلَسْنَا بِنَازِعِينَ مِنْ يَدِ رَجُلٍ سَبْيًا أَسْلَمَ عَلَيْهِ ، وَلَكِنَّا نُقَوِّمُهُ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ .ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”کسی عرب پر غلامی (کی ملکیت) جائز نہیں ہے، اور ہم کسی شخص کے قبضے سے اس قیدی کو زبردستی نہیں چھینیں گے جس کے پاس رہتے ہوئے اس نے اسلام قبول کیا ہو، البتہ ہم اس (کی رہائی) کے عوض پانچ اونٹ قیمت مقرر کریں گے۔“