❮
❯
حدیث نمبر: 2054
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ ، مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ، ثَنَا نَائِلُ بْنُ مُطَرِّفِ بْنِ رَزِينٍ الْأَسْلَمِيُّ أَبُو أَنَسٍ ، ثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي رَزِينِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ كَانَتْ لَنَا بِئْرٌ فَخِفْتُ أَنْ يَغْلِبَنَا عَلَيْهَا مَنْ حَوْلَنَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ لِي كِتَابًا : مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ لَهُمْ بِئْرَهُمْ إِنْ كَانَ صَادِقًا ، وَلَهُمْ دَارَهُمْ إِنْ كَانَ صَادِقًا . قَالَ : فَمَا قَاضَيْنَا بِهِ إِلَى أَحَدٍ مِنْ قُضَاةِ الْمَدِينَةِ إِلَّا قَضَى لَنَا بِهِ . قَالَ : وَكَانَ فِي الْكِتَابِ هِجَاءٌ . كَانَ : كَوُنَ .
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ فَهْدٌ ، قَالَ : الْفَلَّاسُ : مَتْرُوكٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِعُلُوٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ فَهْدٍ .
وَابْنُ مَنْدَهْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الرَّازِيِّ ، عَنْ فَهْدٍ .
وَالطَّبَرَيُّ وَغَيْرُهُ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ نَائِلِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : اسْتَقْطَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكْيَةً ... الْحَدِيثَ ، فَاللهُ أَعْلَمُ أَيُّهُمَا الصَّوَابُ .
قَالَ ابْنُ مَنْدَهْ : رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يُونُسَ الشِّيرَازِيُّ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عُمَرَ الْحُسَيْنِيِّ ، عَنْ نَائِلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَزْمِ بْنِ أَنَسِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، ثَنِي أَبِي ، عَنْ لُبَابَةَ قَالَ : إِنَّ الْكِتَابَ كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَزِينِ بْنِ أَنَسٍ .
ترجمہ

سیدنا رزین بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”جب اسلام کا ظہور ہوا تو ہماری ملکیت میں ایک کنواں تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمارے ارد گرد کے لوگ اس پر زبردستی قبضہ نہ کر لیں، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے میرے لیے ایک تحریر لکھوا دی: ”محمد رسول اللہ (ﷺ) کی جانب سے، حمد و ثنا کے بعد: اگر یہ شخص (اپنے دعوے میں) سچا ہے تو ان کا کنواں انہی کی ملکیت ہے، اور اگر یہ سچا ہے تو ان کا گھر بھی انہی کا ہے“۔ سیدنا ررزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ کے قاضیوں میں سے جس کے پاس بھی یہ حکمنامہ لے کر گئے، اس نے اسی کے مطابق ہمارے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس تحریر میں لفظ 'کَانَ' کے ہجے 'کَوُنَ' کی صورت میں لکھے ہوئے تھے۔ یہ ایک غریب حدیث ہے جسے روایت کرنے میں فہد نامی راوی منفرد ہیں، اور امام فلاس رحمہ اللہ نے انہیں "متروک" قرار دیا ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے عالی سند کے ساتھ علی بن عبدالعزیز کے واسطے سے فہد سے روایت کیا ہے، نیز امام ابن مندہ نے عبدالرحمٰن بن یحییٰ کے واسطے سے ابومسعود رازی سے اور انہوں نے فہد سے اسے نقل کیا ہے۔ امام طبری اور دیگر محدثین نے اسے محمد بن حمید کے طریق سے نائل بن مطرف بن عباس، انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کنویں کا قطعہ زمین بطور جاگیر طلب کیا تھا...“ (مکمل حدیث ذکر کی)، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان دونوں میں سے درست کون سی بات ہے۔ امام ابن مندہ فرماتے ہیں کہ اسے یحییٰ بن یونس شیرازی نے عبدالسلام بن عمر حسینی سے، انہوں نے نائل بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن حزم بن انس بن عامر اسلمی سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے لبابہ سے روایت کیا ہے کہ ”بے شک یہ تحریر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ررزین بن انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 2054
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد أبي يعلى ضعيف جدًا، فيه فهد بن عوف وهو متروك، ومدار الحديث عليه، وفيه من لم أعرفه. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4630، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9721، 9722، 9792، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4253، 4924»