❮
❯
حدیث نمبر: 201
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، قَالَتْ : " كَانَتْ تُحَدِّثُنَا أَسْمَاءُ وَبَنَاتُ أَخِيهَا ، فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْحَيْضَةِ بَعْدَ الطُّهْرِ ثُمَّ الْحَيْضَةِ ، سَلَسُهَا إِلَى الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ ، فَتَأْمُرُنَا أَنْ نَعْتَزِلَ الصَّلَاةَ حَتَّى لَا نَرَى إِلَّا الْبَيَاضَ خَالِصًا " .
ترجمہ

سیدہ فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ہمیں اور اپنے بھائی کی بیٹیوں کو علمی مسائل بیان کرتی تھیں، چناچہ ہم میں سے کوئی خاتون حیض سے پاکی کے بعد غسل کر لیتی، پھر اسے دوبارہ حیض کی مانند مسلسل زردی اور گدلا پن آنے لگتا، تو وہ (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا) ہمیں یہ حکم دیتیں کہ ”تم نماز ادا کرنے سے اجتناب کرو یہاں تک کہ تم بالکل صاف سفید مادہ نہ دیکھ لو“۔
اس اثر کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے اور یہ اس بات کی فقہی دلیل ہے کہ حیض کے ایام میں نظر آنے والی زردی اور گدلاہٹ بھی حیض کے حکم میں ہے جب تک کہ مکمل سفیدی (طہارت کی علامت) نظر نہ آ جائے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحيض / حدیث: 201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده حسن. »
«أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 889، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1621، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 201، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1013»